حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشہری نے قم المقدسہ میں نماز جمعہ کے خطبوں میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے یوم اللہ 13 آبان کی ریلی میں بھرپور شرکت کرکے ثابت کردیا کہ وہ انقلاب اسلامی، اپنے شہید رہبر اور موجودہ رہبر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دوست اور دشمن دونوں عوام کی سرگرمیوں اور موقف پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی آٹھ ماہ کی مزاحمت کے نتیجے میں دشمن کی شکست واضح ہوگئی ہے۔ خود امریکی حلقوں میں بھی یہ اعتراف کیا جارہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ نہ ہوتی تو ڈونلڈ ٹرمپ کو اس طرح کی مسلسل اور بڑی شکستوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آج امریکہ میں اس شکست کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
آیت اللہ حسینی بوشہری نے اس صورت حال کا واقعۂ کربلا کے بعد اہل بیت علیہم السلام کی اسیری سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جب امام سجاد علیہ السلام نے اپنے والد کے قاتلوں کے بارے میں پوچھا تو ہر شخص نے ذمہ داری دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی۔ آج ٹرمپ کی صورت حال بھی ایسی ہی ہے، کیونکہ اس کی حکومت کے تمام اہم فیصلے اسی کی ہدایت پر ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر انقلاب نے فرمایا تھا کہ امریکہ میں حکومتیں بدلنے سے ایران کے خلاف اس کی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی، کیونکہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں سے ایران کو نقصان پہنچا ہے۔ لہٰذا ڈیموکریٹس کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
قم کے امام جمعہ نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی مقام سے کارروائی کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ یہ موقف اس بات کی علامت ہے کہ ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع میں جغرافیائی حدود کو رکاوٹ نہیں سمجھتا۔
انہوں نے رہبر معظم انقلاب کے پیغام کو بار بار پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں قومی اتحاد، عوام کی معاشی مشکلات دور کرنے کے لیے حکام کی ذمہ داری اور عوام و حکومت کے درمیان تعاون پر خاص توجہ دی گئی ہے۔
آیت اللہ حسینی بوشہری نے ایران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں جنگ اور فوجی جارحیت کا خاتمہ، پابندیوں کی منسوخی، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ، دھمکیوں کا خاتمہ، خطے سے امریکی فوجیوں کا انخلا اور بحری پابندیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دشمن بالآخر ایران کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوگا۔
انہوں نے ایام فاطمیہ کی مناسبت سے مجالس اور عزاداری کے پروگراموں کو بھرپور انداز میں منعقد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی استقامت ہی ہماری جدوجہد اور مشکلات برداشت کرنے کا سرچشمہ ہے۔
خطیب نماز جمعہ قم نے پہلے خطبے میں قرآن کریم کی سورۂ اعراف کی آیت 201 کی روشنی میں تقویٰ اور شیطانی وسوسوں سے بچنے کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کی مختلف سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاشرے سے شرک کا خاتمہ، عدل کا قیام، لوگوں کو خبردار کرنا، دشمن کی طاقت کو توڑنا اور عزت و وقار پیدا کرنا اپنی جدوجہد کا حصہ بنایا۔ آپ کی کوشش صرف دشمن کو وقتی شکست دینا نہیں تھی، بلکہ معاشرے کی فکری اور اعتقادی بنیادوں کو درست کرنا تھی، کیونکہ جب تک لوگوں کے عقائد اور سوچ کی اصلاح نہیں ہوگی، مخالفت اور دشمنی دوبارہ سر اٹھاتی رہے گی۔










آپ کا تبصرہ